پیرس14مئی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)فرانس کے نئے صدر ایمانوئیل ماکروں نے اپنے عہدے کاحلف اٹھا لیاہے۔ تقریب حلف برداری میں تقریباً تین سو سے افراد نے شرکت کی، جن میں سرکاری اہلکار اور ان کے اہل خانہ موجودتھے۔انتالیس سالہ ایمانوئیل ماکروں فرانس کی تاریخ کے سب سے کم عمر ترین سربراہ مملکت ہیں۔ ماکروں یورپی اتحادکے حامی ہیں اور اسی لیے بطور صدر وہ اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر جرمن چانسلرانگیلا میرکل سے ملاقات کرنے کے لیے کل پیر کو برلن آئیں گے۔آج سابق صدرفرانسوا اولانڈنے ملکی باگ ڈورباقاعدہ ماکروں کے حوالے کی۔ ماکروں نے حلف برداری سے کچھ دیر قبل صدارتی محل الیزے پیلس میں اولانڈ سے ایک نجی ملاقات بھی کی۔ وہ اولانڈ کی کابینہ میں وزیر اقتصادیات بھی رہ چکے ہیں۔ اب وہ فرانسیسی فوج کے سپریم کمانڈر بن گئے اور ملکی جوہری کوڈز بھی ان کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔الیزے پیلس میں اکیس توپوں کی سلامی کے بعدماکروں روایتی طور پر نامعلوم فوجیوں کی یادگار آرک دے ٹریومف( Arc de Triomphe) کا دورہ بھی کریں گے۔یہ یادگار پیرس کی معروف شاہراہ شانز ایلی زے پر واقع ہے۔ ماکروں نے ایک آزاد امیدوار کے طور پر صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ گزشتہ اتوار کو صدارتی انتخابات کے دوسرے اور فیصلہ کن مرحلے میں انہیں 64 فیصد ووٹ ملے تھے۔ ان کی حریف قوم پرست، یورپی یونین اور تارکین وطن کی مخالفت کرنے والی دائیں بازو کی سیاست دان مارین لے پین تھیں، جنہیں 34 فیصد عوامی تائید حاصل ہوئی تھی۔ماکروں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اصلاحاتی پالیسیوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے یورپی یونین اور یورو زون کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں گے۔ توقع ہے کہ وہ پیر کو اپنا نیا وزیراعظم نامزدکر دیں گے جبکہ حکومت کا اعلان منگل کو کیا جائے گا۔ فرانس سلامتی کونسل میں مستقل نشست کا حامل یورپی یونین کا واحد ملک ہے۔